اسلام آباد: پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کی مؤثر سہولت کاری سے اقدامات تیزی سے جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں وفاقی وزیر بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے چین کی کمپنی ہیبی جوہانگ انرجی ٹیکنالوجی گروپ کے وفد سے اہم ملاقات کی۔
چینی وفد نے پاکستان میں سولر انرجی اور ہائی ٹیک شعبہ جات میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ وفد کی جانب سے پاکستان میں بڑے پیمانے پر سولر پینل مینوفیکچرنگ پلانٹ لگانے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔
ملاقات میں ستمبر 2025 میں بیجنگ میں ہونے والی پاکستان۔چین بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس کے نتائج کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جہاں متعدد ترجیحی شعبوں میں 8.5 ارب امریکی ڈالر کے معاہدے اور مشترکہ منصوبے طے پائے تھے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان چینی سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ، پُرکشش اور تیزی سے بڑھتا ہوا سرمایہ کاری مرکز بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے 6,000 ایکڑ زمین مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
قیصر احمد شیخ کے مطابق پاکستان اقتصادی استحکام کی راہ پر گامزن ہے اور اسٹاک مارکیٹ انڈیکس گزشتہ سال کے مقابلے میں 4 سے 5 گنا بہتر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے باہمی تعاون سے روزگار کے مواقع، برآمدات اور صنعتی ترقی میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
آخر میں کہا گیا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایس آئی ایف سی کی مسلسل کاوشوں کے نتیجے میں ملکی معیشت مزید استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔