اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے جاری انفراسٹرکچر بہتری منصوبوں کا معائنہ کیا اور پیش رفت کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے تعمیراتی سرگرمیوں کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت جاری کی۔
محسن نقوی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں سرکاری اداروں میں کرپشن کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کا حکم دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے وژن کے مطابق زیرو ٹالرنس پالیسی اپناتے ہوئے بدعنوانی کا خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے میں اصلاحات کا عمل رواں سال دسمبر تک مکمل کر لیا جائے گا۔
اجلاس کے دوران ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کا جامع ڈیٹا مرتب کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرون ملک ملازمتوں کے اشتہارات کی آن لائن نگرانی کی جا رہی ہے جبکہ گمراہ کن اشتہارات سے متعلق عوامی آگاہی بھی یقینی بنائی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ ایف آئی اے کو ہر قسم کے منظم جرائم کے خلاف ہراول دستے کے طور پر مزید مؤثر بنایا جائے اور ادارے کو ہر سطح پر مکمل معاونت فراہم کی جائے گی۔
ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق ادارے میں احتساب کے لیے شفاف اور مؤثر نظام وضع کیا گیا ہے جبکہ دیگر ایجنسیوں کے ساتھ ورکنگ گروپس اور کوآرڈینیشن کمیٹیاں بھی تشکیل دی جا رہی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ امیگریشن، اینٹی ہیومن اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھایا جا رہا ہے۔