ڈیرہ بگٹی: پاکستان ہاوٴس سوئی میں بی آر اے(براہمداغ بگٹی) کے سب سے بڑے کمانڈر وڈیرہ نور علی چاکرانی نے اپنے 100 سے زائد فراریوں کے ہمراہ سرنڈر ہوکر ہتھیار ڈال دئیے۔میرافتاب بگٹی کے سامنے سرنڈر ہونے والے فراریوں سے پاکستان سے وفاداری کا حلف لیا گیا۔
ریاست کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ نہایت مثبت پیش رفت ہے۔ یہ عمل نہ صرف اْن کے قومی اداروں پر اعتماد کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اْن کے حبْ الوطنی کے جذبے اور ڈیرہ بگٹی میں امن و ترقی کے لیے کردار ادا کرنے کے عزم کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ اْن کا یہ قدم قابلِ تعریف ہے اور داد و تحسین کا مستحق ہے۔
اسی کے ساتھ، جو افراد پہاڑوں کی جانب فرار ہو گئے ہیں، اْن سے بھی پْرزور اور خلوصِ دل کے ساتھ درخواست ہے کہ وہ واپس آئیں اور استحکام، ترقی اور ہم آہنگی کی راہ میں شامل ہوں۔ اْن کے بچوں اور آنے والی نسلوں کا مستقبل امن سے وابستہ ہے، نہ کہ مزاحمت سے۔ آخر کب تک ڈیرہ بگٹی میں بے چینی، خوف اور بھتہ خوری کا یہ سلسلہ جاری رہے گا؟ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم امن کو گلے لگائیں، معمولاتِ زندگی بحال کریں، اور سب مل کر ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل کے لیے کردار ادا کریں۔
یہ100 سے زاہد گمراہ افراد نے ریاست کی آغوش میں واپس آکر ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کیا ہےصرف ایک خوش آئند پیش رفت نہیں، بلکہ ڈیرہ بگٹی کی ہر گھرانے کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہے۔ ان کا یہ قدم ہمت، سمجھ داری اور اپنے وطن سے گہری محبت کی علامت ہے۔ اس دھرتی کے ان بیٹوں نے سمجھ لیا ہے کہ اصل عزت جنگ میں نہیں، امن میں ہے، اور ان کا یہ فیصلہ دل سے تعریف کے قابل ہے۔
جو لوگ اب بھی پہاڑوں میں موجود ہیں، ان سے دلی، خلوص بھری اپیل ہے: واپس آجاوٴ۔ اپنے گھروں کو لوٹ آوٴ۔ تمہارے خاندان تمہاری راہ تک رہے ہیں۔ تمہارے بچوں کا حق ہے کہ وہ خوف سے پاک زندگی گزاریں۔ آخر کب تک بے چینی، بھتہ خوری اور بے امنی کا یہ اندھیرا ڈیرہ بگٹی پر چھاتا رہے گا؟ ہماری سرزمین بہت تکلیفیں جھیل چکی۔
اب وقت آگیا ہے کہ اس درد کا خاتمہ کیا جائےزندگی کو تباہی پر، تعمیر کو بربادی پر، اور اتحاد کو تقسیم پر ترجیح دی جائے۔ ڈیرہ بگٹی تبھی ترقی کرے گا جب اس کے تمام لوگ ایک ساتھ کھڑے ہوں گے۔ آئیں، ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک پْرامن کل دیں ایک ایسا کل جس پر ہم سب فخر کر سکیں۔