کابل:افغان طالبان رجیم کی اقتدار میں دوبارہ واپسی کے بعد سے افغانستان کی معیشت بدترین زبوں حالی کا شکار ہو چکی ہے، جبکہ ملکی اقتصادی مستقبل کو تاریک قرار دیا جا رہا ہے۔ شرپسند طالبان ٹولے کی تمام تر توجہ ملکی معیشت کی بہتری کے بجائے جبر و استبداد اور دہشت گردوں کی حمایت کے ذریعے اپنے اقتدار کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے۔
افغانستان انٹرنیشنل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سابق افغان وزیر خزانہ انوار الحق احدی نے طالبان رجیم کے معاشی ترقی سے متعلق دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں سرمایہ کاری کے لیے ضروری فریم ورک تک موجود نہیں۔ ان کے مطابق افغانستان میں قانونی فریم ورک کا فقدان ہے اور ریاستی اداروں پر طالبان حمایت یافتہ افراد کی اجارہ داری قائم ہے۔
سابق افغان وزیر خزانہ نے انٹرویو میں انکشاف کیا کہ افغانستان میں سرمایہ کاروں کے لیے نہ تو مناسب سیکیورٹی موجود ہے اور نہ ہی تربیت یافتہ افرادی قوت دستیاب ہے، جبکہ افغان طالبان رجیم میں سرمایہ کاری کے لیے حالات اب انتہائی خطرناک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی پابندیاں اور واضح معاشی پالیسیوں کی عدم موجودگی سرمایہ کاری کو محدود کر چکی ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں دہشت گردی اور تباہ حال معاشی صورتحال کے باعث بے روزگاری کی شرح 75 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی علاقائی امن و استحکام کو شدید خطرات سے دوچار کر رہی ہے، جبکہ طالبان رجیم کے زیرِ تسلط افغانستان کو 2026 میں ایک بڑے معاشی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم کی ناقص پالیسیاں افغانستان کو درپیش سیکیورٹی اور انسانی بحران کی سب سے بڑی وجہ ہیں، جبکہ شرپسند طالبان ٹولے کی عسکریت پسندی کے باعث پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ افغانستان کے اقتصادی تعلقات بھی تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔