Home sticky post 6 جنوبی ایشیا میں تنازعات کسی بھی وقت بھڑک سکتے ہیں،جنرل ساحر شمشاد مرزا

جنوبی ایشیا میں تنازعات کسی بھی وقت بھڑک سکتے ہیں،جنرل ساحر شمشاد مرزا

Share
Share

سنگاپور:چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے خبردار کیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں کئی غیر حل شدہ تنازعات اب بھی متحرک ہیں جو کسی بھی وقت قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔

سنگاپور میں جاری شنگریلا ڈائیلاگ کے دوران ایک اہم خطاب میں جنرل ساحر شمشاد نے کہا کہ ایشیا پیسیفک اب اکیسویں صدی کا جیوپولیٹیکل کاک پٹ بن چکا ہے، جہاں اسٹریٹیجک کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خطے میں بحرانوں سے نمٹنے کے ادارہ جاتی نظام نہ صرف نازک ہیں بلکہ غیر مساوی بھی ہیں، جس کی وجہ سے تنازعات کی شدت کم کرنے کے لیے مؤثر مکالمہ اور تعاون کا فقدان ہے۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ جنوبی ایشیا کو ایشیا پیسیفک کی استحکام سے متعلق مکالمے سے الگ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہاں تنازع کشمیر سمیت کئی بنیادی مسائل حل طلب ہیں۔

جنرل ساحر کا کہنا تھا کہ ایسے فعال تنازعات کسی بھی وقت بھڑک سکتے ہیں، جن سے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سلامتی کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

خطاب میں چیئرمین جوائنٹ چیفس نے کہا کہ پائیدار کرائسس مینجمنٹ کے لیے باہمی برداشت، واضح ریڈ لائنز اور مساوی رویہ ناگزیر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک فریقین کو برابری کا درجہ نہیں دیا جاتا، کوئی بھی اسٹریٹجک فریم ورک مؤثر ثابت نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایڈہاک اقدامات ناکافی ہیں۔ خطے کو ایسے ادارہ جاتی پروٹوکولز، فعال ہاٹ لائنز، کشیدگی میں کمی کے لیے طے شدہ طریقہ کار، اور مشترکہ کرائسس مینجمنٹ مشقوں کی ضرورت ہے۔

جنرل ساحر شمشاد مرزا نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت، سائبر حملے اور رئیل ٹائم بیٹل فیلڈ سرویلنس جیسے جدید حربے اسٹریٹجک فیصلوں پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں، اس لیے کرائسس مینجمنٹ میکنزم میں ان جدید حقیقتوں کو شامل کیا جانا چاہیے۔

خطاب کے آخر میں انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر طاقت اور مفادات اب اخلاقیات، اصولوں، ریاستی خودمختاری، علاقائی سالمیت، انسانی حقوق اور انصاف جیسے اقدار سے بالاتر ہو چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نظریاتی یا علاقائی اختلافات کو دبانے سے نہیں، بلکہ پُراعتماد مکالمے اور مؤثر اسٹریٹجک کمیونیکیشن سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ غلط فہمیاں اور گمراہ کن معلومات کشیدگی کو ہوا دیتی ہیں، اس لیے اسٹریٹجک کمیونیکیشن کو بہتر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

Share
Related Articles

امریکی سینیٹر لنزے گراہم 71 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

ریپبلکن رہنما اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی طویل سیاسی خدمات...

یورپ میں شدید گرمی کی لہر، جنگلات میں ہولناک آتشزدگی، ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر منتقل

فرانس، اسپین، پرتگال اور یونان میں 42 ہزار ایکڑ سے زائد رقبہ...

لنڈا نوسکووا ومبلڈن اوپن خواتین سنگلز کی نئی چیمپئن بن گئیں

ہم وطن کیرولینا موچووا کو شکست دے کر کیریئر کا پہلا گرینڈ...

او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین، تکنیکی سیشنز جاری، مرکزی اجلاس کل ہوگا

57 رکن ممالک کے 190 مندوبین کی شرکت، خواتین کے حقوق، بااختیار...