کابل: نائب وزیرِاعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمداسحاق ڈار نے کابل میں پاکستان، چین اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کے چھٹے سہ فریقی اجلاس کے موقع پر افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی سے دوطرفہ ملاقات کی۔
ترجمان دفترخارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور حالیہ سفارتی نمائندگی کو ناظم الامور سے سفیر کی سطح تک بڑھانے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا، جو 21 مئی 2025 کو بیجنگ میں ہونے والے سہ فریقی اجلاس میں طے پایا تھا۔
ترجمان کے مطابق فریقین نے حالیہ ملاقاتوں کا بھی حوالہ دیا، جن میں 19 اپریل اور 17 جولائی 2025 کو پاکستانی وزیر خارجہ کے دورہ کابل اور 21 مئی کو بیجنگ اجلاس شامل ہیں۔ وزرائے خارجہ نے اطمینان کا اظہار کیا کہ ان ملاقاتوں میں کیے گئے بیشتر فیصلے یا تو نافذ ہو چکے ہیں یا تکمیل کے قریب ہیں، جن سے پاک افغان تعلقات خصوصاً تجارت اور ٹرانزٹ کے شعبوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
نائب وزیرِاعظم و وزیر خارجہ نے سیاسی اور تجارتی روابط میں مثبت پیشرفت کو سراہا، تاہم سیکیورٹی اور خصوصاً انسداد دہشت گردی کے شعبے میں پیشرفت کو ناکافی قرار دیا۔ انہوں نے افغانستان سے ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں کا ذکر کرتے ہوئے افغان سرزمین سے سرگرم گروہوں جیسے تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور بلوچستان لبریشن آرمی (BLA)/مجید بریگیڈ کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات کا مطالبہ کیا۔
افغان قائم مقام وزیر خارجہ نے یقین دہانی کرائی کہ افغان سرزمین کو کسی بھی دہشت گرد گروہ کو پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
نائب وزیرِاعظم و وزیر خارجہ نے افغان حکام کی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا اور چھٹے سہ فریقی اجلاس کی کامیاب میزبانی پر مبارکباد دی۔