نئی دہلی:پاکستان سے حالیہ عسکری محاذ پر شکست کے بعد بھارتی فوجی قیادت میں اختلافات اور تقسیم کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ بھارتی مسلح افواج کے درمیان “تھیٹرائزیشن” کے متنازعہ منصوبے نے نہ صرف ادارہ جاتی ہم آہنگی کو متاثر کیا ہے بلکہ دفاعی پالیسی سازی میں سیاسی مداخلت کے سنگین اثرات بھی ظاہر ہونے لگے ہیں۔
بھارتی جریدے دی اکنامک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، ایئر چیف مارشل امر پریت سنگھ نے تھیٹرائزیشن منصوبے کے جلد بازی میں نفاذ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت ہر چیز میں خلل ڈالتے ہوئے ایک نیا ڈھانچہ بنانا اچھا خیال نہیں ہے۔بھارت کو کسی دوسرے ملک کی طرز پر اپنی فوجی ساخت اور حکمتِ عملی کو تبدیل نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ ہر ملک کی اپنی مخصوص دفاعی ضروریات ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی دباؤ میں آ کر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے، اعلیٰ سطح پر مشترکہ منصوبہ بندی اور رابطہ کاری کی ضرورت ہے۔ایئر چیف نے دہلی میں ایک مربوط اور مشترکہ منصوبہ بندی مرکز کے قیام پر بھی زور دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، مودی سرکار کا تھیٹرائزیشن منصوبہ اصل میں فوجی کمانڈ کا مکمل سیاسی کنٹرول حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے، جسے بھارتی افواج میں پیشہ ورانہ حلقوں کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔مودی سرکار کےمتنازعہ تھیٹرائزیشن منصوبے نے بھارتی فوج میں نئےتضادات پیدا کر دئیے ہیں۔بی جے پی کی سیاسی مداخلت نے بھارتی افواج کو پیشہ ورانہ بنیادوں سے محروم کر دیا ہے۔