نیویارک:اقوامِ متحدہ میں پاکستان نے انسانی حقوق کے بیانیے کو غیر سیاسی بنانے، پائیدار امن کو غیر ملکی قبضے اور حقِ خودارادیت کی نفی کے خاتمے سے مشروط قراردیتے ہوئے انسانی حقوق کونسل پرمحاذ آرائی یا سیاسی مقاصد کے بجائے مکالمے اور تعاون کا فورم بنے رہنےپرزوردیاہے۔
جنرل اسمبلی میں انسانی حقوق کونسل کی رپورٹ پیش کرنےکےموقع پربیان میں مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے فلسطین اور جموں و کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان خطوں کے عوام آج بھی ظلم و جبر اور بے دخلی کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کونسل کو بین الاقوامی قانون کے تحفظ اور تمام مقبوضہ و مظلوم اقوام کے حقوق کے دفاع کے لیے اپنے روک تھام کے مینڈیٹ کو فعال انداز میں استعمال کرنا چاہیے۔
عاصم افتخار احمد نے عالمی انسانی حقوق کے ایجنڈے کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے کئی تجاویز پیش کیں اورکہاکہ کونسل کی ساکھ اور فعالیت کیلئےمناسب، قابلِ پیش گوئی اور پائیدار مالی وسائل ناگزیر ہیں۔ پاکستان کے حالیہ انتخاب بطور رکن انسانی حقوق کونسل کا حوالہ دیتے ہوئے، سفیر عاصم افتخار احمد نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک متوازن، اُصولی اور تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔