اسلام آباد : حکومت نے توانائی بحران کے پیش نظر پٹرول پر سبسڈی کی فراہمی کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس منصوبے کے تحت موبائل ایپ کے ذریعے پٹرول کی تقسیم کو منظم کیا جائے گا تاکہ شفافیت اور موٴثریت کو یقینی بنایا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارتِ آئی ٹی اس منصوبے کے لیے 24 ہزار موبائل فونز خریدے گی، جبکہ نیشنل آئی ٹی بورڈ ان فونز کی قیمتوں کا تعین کرے گا۔ بعد ازاں آئل مارکیٹنگ کمپنیاں یہ موبائل فونز خرید کر ملک بھر کے پٹرول پمپس کو فراہم کریں گی۔
ذرائع کے مطابق ملک کے تقریباً 12 ہزار پٹرول پمپس پر 24 ہزار موبائل فونز فراہم کیے جائیں گے اور ہر پمپ پر دو نوزلز سبسڈائز پٹرول کے لیے مختص ہوں گی۔ اس نظام کے تحت موٹر سائیکلوں اور رکشوں (ٹو اور تھری وہیلرز) کو موبائل ایپ کے ذریعے سبسڈائز پٹرول فراہم کیا جائے گا۔
موبائل ایپ تیار کر لی گئی ہے اور اس کی ٹیسٹنگ آخری مراحل میں ہے۔ ذرائع کے مطابق صارفین کو اس ایپ کے ذریعے ڈیجیٹل واوٴچرز جاری کیے جائیں گے اور مقررہ کوٹے سے زیادہ پٹرول لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔ موٹر سائیکلوں کے لیے ماہانہ 20 سے 30 لیٹر تک سبسڈائز پٹرول فراہم کرنے کی تجویز ہے، جبکہ 800 سی سی تک گاڑیوں کو اس سہولت میں شامل کرنے سے متعلق حتمی فیصلہ تاحال نہیں ہو سکا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے اور ہنگامی حالات کے لیے متبادل منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ملک بھر میں پٹرول پمپس کی نگرانی کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے تاکہ نظام کو شفاف اور موٴثر بنایا جا سکے۔
حکومت کی جانب سے موٹر سائیکل اور تین پہیوں والی گاڑیوں کو ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کا امکان ہے، جس کے تحت مخصوص صارفین کو ماہانہ 20 سے 30 لیٹر تک پٹرول فراہم کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق سبسڈائز پٹرول کے حصول کے لیے کیو آر کوڈ جاری کیے جائیں گے اور اس حوالے سے باقاعدہ اعلان جلد متوقع ہے۔