روس اور یوکرین کی جنگ میں بھارت کے کردار سے متعلق ایک سنگین انکشاف سامنے آیا ہے، جس نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق یوکرین میں روسی افواج کے زیر استعمال ڈرونز میں بھارتی ساختہ پرزے دریافت ہوئے ہیں۔ یوکرینی صدر کے چیف آف اسٹاف، اندری یرماک نے اس انکشاف کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی ڈرونز، جو یوکرین کی فرنٹ لائن اور شہری علاقوں پر بمباری کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں، ان میں بھارت سے حاصل کردہ پرزے شامل ہیں۔
یہ انکشاف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارت عالمی فورمز پر روس-یوکرین تنازع میں غیر جانبداری کا دعویٰ کرتا رہا ہے۔ تاہم بھارتی پرزوں کی موجودگی نے مودی حکومت کی اس پالیسی کو مشکوک بنا دیا ہے۔ یوکرینی حکام نے بھارتی ساختہ پرزوں کی موجودگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی معاونت روسی جنگی صلاحیت کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ ڈرونز نہ صرف فوجی ٹھکانوں پر حملوں میں استعمال ہوئے بلکہ شہری آبادی، بنیادی ڈھانچے اور ہسپتالوں کو بھی نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے گئے۔ یوکرینی حکومت کا مؤقف ہے کہ بھارت کی جانب سے روس کو تکنیکی یا پرزہ جاتی مدد فراہم کرنا عالمی سطح پر اس کے غیر جانبدار امیج کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی دوغلے پن کا شکار ہے۔ ایک طرف وہ امن کی بات کرتی ہے، دوسری طرف جنگی منافع خوری میں مصروف ہے۔ اس انکشاف سےدنیا کے سامنے بھارت کی دوغلی پالیسی بے نقاب ہو گئی۔عالمی امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مودی سرکار کی جارحیت پسند خارجہ پالیسی ہے۔