نئی دہلی: بھارت میں آر ایس ایس کے نظریے پر چلنے والی مودی حکومت کے دور میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات شدید خطرات سے دوچار ہیں۔ معروف بھارتی جریدے دی ٹیلی گراف انڈیا کے مطابق، اتر پردیش کے ضلع سنبھل کے رائے بزرگ گاؤں میں ایک اور مسجد کو شہید کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، مسجد کو مقامی انتظامیہ نے تجاوزات کا الزام عائد کرتے ہوئے فوجی دستے اور بھاری پولیس نفری کی موجودگی میں گرایا۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ مسجد تقریباً دس سال پہلے تعمیر کی گئی تھی ۔
دی ٹیلی گراف نے مزید انکشاف کیا کہ یہ گزشتہ چار ماہ میں ضلع سنبھل میں مسجد کو شہید کرنے کا دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے رضاءِ مصطفیٰ مسجد کو بھی سنبھل کی انتظامیہ نے گرایا تھا۔
اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس قسم کے اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ “رام مندر کی تعمیر کے بعد ضلع ایودھیا ترقی اور روحانیت سے آگے بڑھ رہا ہے، سنبھل کو بھی کاشی اور ایودھیا کی طرز پر بنایا جائے گا۔”
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ آر ایس ایس کے نظریے کے تحت گجرات کے قتل عام کو پھر دہرانا چاہتا ہے۔مودی سرکار میں ہندوتوا انتہا پسندوں کا مساجد گرانا مودی کی متعصبانہ پالیسیوں کا ثبوت ہیں۔مسلم شناخت مٹانے کی سرکاری کوشش بھارتی سیکولرازم کے تابوت میں آخری کیل ہے۔