نیویارک: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور نیویارک میں پاکستانی قونصل خانے کے اشتراک سے یومِ استحصال کشمیر’ کی چھٹی سالگرہ کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب میں مقررین نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی جائز اور قانونی جدوجہد کی پُرزور حمایت کا اظہار کیا۔ مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلہ جموں و کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر ممکن نہیں۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور نیویارک میں پاکستانی قونصل خانے کے اشتراک سے “غیر حل شدہ مسئلہ جموں و کشمیر: علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ” کے موضوع پر ہونے والی اس تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بشمول ماہرین تعلیم، میڈیا، سول سوسائٹی اور پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کے افراد نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرنے والوں میں ممتاز کشمیری نمائندے ڈاکٹر آصف الرحمٰن، ورلڈ کشمیر اویئرنیس فورم کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر غلام نبی فائی، ماہر تعلیم اور سینئر صحافی ڈاکٹر عبد الحمید سیام، او آئی سی کے اقوام متحدہ میں مستقل مبصر سفیر حامد اوپیلویرو، اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے سفیر عاصم افتخار احمد شامل تھے۔
تقریب کا آغاز قونصل جنرل عامر احمد اتاؤزی کی استقبالیہ تقریر سے ہوا۔اپنے کلیدی خطاب میں سفیر عاصم افتخار احمد نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا کہ وہ بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کے مظلوم عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تشریف لائے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم نریندر مودی اور نیتن یاہو کی پالیسیوں میں تشویشناک مماثلت دیکھ رہے ہیں دونوں مقبوضہ علاقوں میں مقامی آبادی کو جڑ سے اُکھاڑنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، خواہ وہ کشمیر ہو یا فلسطین، تاکہ آبادیاتی تناسب کو زبردستی بدلا جا سکے اور عوام کی جائز خواہشات کو دبایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ اس طرح کے ظالمانہ منصوبے کبھی کامیاب نہیں ہوئے اور نہ اب ہوں گے۔سفیر عاصم نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، قانونی اور اخلاقی حمایت پر قائم ہے۔ اقوام متحدہ میں ہماری سفارتکاری تین اہم پہلوؤں پر مرکوز رہی ہے، سیاسی وکالت، قانونی معاونت اور انسانی حقوق کی نگرانی۔انہوں نے کہا کہ حالیہ فوجی اشتعال انگیزی اور پاکستان کی کامیابی کے بعد بھی ہم نے کشیدگی کے بجائے سفارتکاری کو ترجیح دی جو کہ ہمارے ایک ذمہ دار عالمی رکن ہونے کا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ قرارداد نہ صرف مسئلہ کشمیر اور فلسطین جیسے حل طلب تنازعات پر عالمی توجہ مرکوز کرنے کا باعث بنی بلکہ اقوام متحدہ کے منشور کے تحت تمام ممالک کو تنازعات کے پرامن حل کی اپنی ذمہ داریوں کی یاددہانی بھی کرائی۔
پاکستان کے سفیر نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا 5 اگست 2019 کے بھارت کے غیر قانونی اقدامات کے بعد مسئلہ جموں و کشمیر کو متنازعہ قرار دینا ایک بروقت اور اہم پیش رفت تھی۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کا یہ مؤقف پاکستان کے مؤقف سے مکمل مطابقت رکھتا ہے جو اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں اور کشمیری عوام کی مرضی پر مبنی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ “کشمیری تنہا نہیں ہیں۔ پاکستان ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے اور جب تک انہیں انصاف اور ان کی جائز امنگوں کی تکمیل نہیں ملتی، ہم اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔
اپنے ابتدائی کلمات میں، قونصل جنرل عامر احمد اتاؤزی نے بھارتی قابض افواج کے خلاف کشمیری عوام کی جرات مندانہ جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ظلم و ستم کے باوجود کشمیریوں کا حوصلہ پست نہیں ہوا۔
او آئی سی کے اقوام متحدہ میں مستقل مبصر، سفیر حامد اوپیلویرو نے کہا کہ او آئی سی کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے ان کے جائز اور قانونی جدوجہد میں ان کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی نے ہمیشہ عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسئلہ جموں و کشمیر کو اقوام متحدہ کے منشور، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرے۔
ورلڈ کشمیر اویئرنیس فورم کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر غلام نبی فائی نے 5 اگست 2019 کو IIOJK کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا۔
معروف صحافی اور ماہر تعلیم ڈاکٹر عبد الحمید سیام نے کہا کہ کشمیری اور فلسطینی عوام کی آزادی کی جدوجہد آپس میں جڑی ہوئی ہیں — دونوں جدوجہد حقِ خودارادیت اور غیر ملکی قبضے کے خلاف مزاحمت پر مبنی ہیں۔
ڈاکٹر آصف الرحمٰن، کشمیری کمیونٹی کے نمائندے نے کہا کہ IIOJK تقسیمِ ہند کا ایک حل طلب مسئلہ ہے۔ صدر ٹرمپ کی حالیہ دلچسپی اس دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے ایک نایاب موقع ہے۔
تقریب کے آغاز میں صدر، وزیراعظم، اور نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ پاکستان کے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان مشن کی سیکنڈ سیکریٹری رابعہ اعجاز نے تقریب کی نظامت کے فرائض انجام دیے۔