اسلام آباد:سپریم کورٹ میں ملٹری کورٹس کیس کی سماعت کے دوران سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل میں کہا عدالت کے بجائے انتظامی جج نے ملزمان کی حوالگی کی۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے ہیں کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت حوالگی تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہو گی۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بنچ نے سماعت کی. فیصل صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے احمد فراز کی نظم لکھنے پر گرفتاری کے فیصلے کا حوالہ دیا.جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ احمد فراز کی کون سی نظم پر کیس بنا تھا، مجھے تو ان کی ساری نظمیں یاد ہیں۔
جسٹس مسرت ہلالی نے اپنے والد کے بارے میں بتایا کہ وہ ایک فریڈم فائٹر تھے، اور ان کی ساری عمر جیلوں میں گزری،میرے والد کی شاعری ان کی وفات کے بعد ایک پشتون جرگہ میں پڑھی گئی، جس پر شاعری پڑھنے والا شخص گرفتار ہو گیا،ان کے والد کی شاعری پڑھنے والے کو بہت مشکل سے رہائی ملی۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ شاعر احمد فراز نے عدالت میں یہ کہہ دیا تھا کہ یہ نظم میری ہے ہی نہیں،جسٹس افضل ظْلہ نے احمد فراز سے کہا تھا کہ آپ کوئی ایسی نظم لکھ دیں جس سے فوجی کے جذبات کی ترجمانی ہو جائے،احمد فراز نے اپنے دفاع میں کہا تھا کہ میرے پاس تو وسائل ہی نہیں کہ اپنی نظم کی تشہیر کر سکوں،آج کل تو سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، اور اگر احمد فراز آج ہوتے تو وہ یہ دفاع نہیں لے سکتے تھے۔
فیصل صدیقی نے کہا کہ اب جسٹس ہلالی نے بتا دیا ہے کہ وہ ایک فریڈم فائٹر کی بیٹی ہیں۔ جسٹس ہلالی نے جواب دیا کہ میں خود بھی ایک فائٹر ہوں۔ فیصل صدیقی نے کہا کہ اس میں تو کوئی شک نہیں ہے۔ انہوں نے وکلا تحریک میں جسٹس ہلالی کے کردار کو بھی یاد کیا۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ آپ کیس کے میرٹس پر دلائل دے رہے ہیں۔ اگر آرمی ایکٹ کی دفعات کالعدم ہوئیں تو آپ کے دلائل غیر متعلقہ ہو جائیں گے۔ جسٹس امین الدین نے کہا کہ آپ بہت سی چیزوں کو مکس کر گئے ہیں۔ فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ میں عدالت کے سامنے ایک مینیو رکھ رہا ہوں، جس میں مختلف آپشن ہیں، اور عدالت کوئی بھی لے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے تو ریلیف چاہیے، وہ کسی بھی طرح ملے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ مینیو وہ والا رکھیں جو عملاً ممکن بھی ہو۔ جسٹس مسرت ہلالی نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ مینیو آج بارش ہو رہی ہے، اس کے حساب سے ہی رکھیں۔ کیس کی سماعت پیر کے روز دوبارہ ہوگی۔