اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عالمی یومِ مہاجرین کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ مل کر اُن افراد کے ہمت و حوصلہ، قربانیوں اور بیش قدر خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے جو محنت مزدوری کے لیے اپنا ملک چھوڑ کر دوسرے ممالک کا رخ کرتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ مہاجرین کی مناسبت سے اس سال یہ دن ’’میری جدوجہد کی کہانی: ثقافتیں اور ترقی‘‘ کے عنوان سے منایا جا رہا ہے، جو اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ انسانی نقل و حرکت بڑے پیمانے پر باعثِ برکت ثابت ہوتی ہے۔ مختلف سماجی پس منظر رکھنے والے افراد کی نقل و حرکت معاشروں کو ثقافتی طور پر مالا مال کرتی ہے اور جدت و تخلیق کو فروغ دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کثیرالثقافتی معاشرہ جب باہمی تعاون، وقار اور حقوق کے اصولوں پر استوار ہو تو دیرپا ترقی کو آگے بڑھاتا ہے۔ وزیراعظم کے مطابق بیرونِ ملک مقیم بارہ ملین سے زائد پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں جو اپنے مادرِ وطن کی صلاحیتوں اور ثقافت کے سفیر ہونے کے ساتھ پاکستان اور دیگر قوموں کے درمیان مضبوط پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر، جو سالانہ 38 ارب ڈالر سے زائد ہیں، ملکی معیشت کے لیے مثبت سہارا اور لاکھوں خاندانوں کا ذریعۂ معاش ہیں، تاہم مہاجرین کی اصل طاقت اُن کی مہارت، محنت اور عزم میں پوشیدہ ہے۔
پیغام میں کہا گیا کہ حکومت پاکستان بیرونِ ملک جانے والے افراد کو ہنرمند بنانے کے انتظامات کو ضروری سمجھتی ہے کیونکہ آج کی عالمی معیشت میں کامیابی کے لیے فنی مہارت کے ساتھ سماجی صلاحیتیں اور زبانوں پر عبور بھی ناگزیر ہے۔ اسی مقصد کے تحت فنی و پیشہ ورانہ تربیتی نظام کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے جبکہ سماجی تربیت، مختلف مہارتوں اور غیر ملکی زبانوں کی تعلیم کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین ٹیلنٹ پارٹنرشپ سمیت مختلف ممالک کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں کے ذریعے سمندر پار پاکستانیوں کے ہنر کو عالمی سطح پر تسلیم کرانے اور اُن کے حقوق کے تحفظ کے لیے منظم نظام تشکیل دے رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی امیگریشن و بہبود پالیسی اور قومی بحالی پالیسی کے مسودے اس امر کو یقینی بناتے ہیں کہ ملک سے باہر جانے والے ہر فرد کے سفر کے تمام مراحل محفوظ اور باوقار ہوں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آئیے اس دن تجدیدِ عہد کریں کہ ناگزیر حالات میں بیرونِ ملک جانے والوں کو ہنرمند بنانے اور اُن کے لیے مواقع کو زیادہ محفوظ اور بااختیار بنانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ مشترکہ ترقی کے سفر کو بارآور بنایا جا سکے۔