اسلام آباد: پاکستانی فضائیہ نے آپریشن غضب للحق کے تحت 16 مارچ کی رات کامیاب اور انتہائی درست فضائی حملے کیے ہیں جن میں کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان حکومت کے دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کی جانب سے 17 مارچ کو جاری سوشل میڈیا بیان کے مطابق کابل میں دو مقامات پر موجود تکنیکی معاونت کے انفراسٹرکچر اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کی تنصیبات کو مؤثر انداز میں تباہ کر دیا گیا۔
حملوں کے بعد نظر آنے والے ثانوی دھماکے اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ وہاں بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود کے ذخائر موجود تھے۔
عطاء اللہ تارڑ کے مطابق ننگرہار میں بھی پاکستان کی مسلح افواج نے افغان طالبان حکومت کے دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے چار فوجی مراکز کو نشانہ بنایا جہاں سے منسلک لاجسٹکس، اسلحہ کے ذخائر اور تکنیکی انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا گیا۔
وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ تمام کارروائیاں انتہائی درستگی کے ساتھ صرف انہی تنصیبات کے خلاف کی گئی ہیں جو افغان طالبان حکومت کی جانب سے مختلف دہشت گرد پراکسی گروہوں، جن میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان شامل ہیں، کی معاونت کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔
اس حوالے سے طالبان حکومت کے پروپیگنڈا کرنے والوں کے جھوٹے دعوے افغان عوام اور عالمی برادری کو گمراہ نہیں کر سکتے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستانی شہریوں کو دہشت گردی سے محفوظ بنانے کے لیے آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک مقررہ اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں ہو جاتے۔