لندن :حکومتِ پاکستان نے آکسفورڈ سینٹر فار اسلامک اسٹڈیز کو ایک منفرد اسلامی فن پارہ پیش کیا ہے، جو پہلی بار سینٹر کے مستقل آرٹ کلیکشن میں پاکستان کی نمائندگی کرے گا۔برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ اس تاریخی ادارے میں پاکستان کی نمائندگی ہمارے لیے قومی فخر کا باعث ہے۔
تقریب میں لارڈ واجد خان، ہائی کمشنر کی اہلیہ ڈاکٹر سارہ نعیم، آکسفورڈ اسلامک سنٹر کی انتظامیہ، سکالرز، ہائی کمیشن کے افسران نے شرکت کی۔
یہ فن پارہ پاکستان کے معروف آرٹسٹ امین گل جی نے تخلیق کیا ہے، جو ان کی مشہور زیرو گریویٹی ٹو ( ZERO GRAVITY – 2) سیریز کا حصہ ہے۔ اس فن پارے میں سورۃ العلق کی پانچویں آیت جو حضور نبی اکرم ﷺ پر نازل ہونے والی اولین آیات میں شامل ہے-
عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ:ترجمہ: سکھایا انسان کو وہ علم جو وہ نہیں جانتا تھا”کو خوبصورت نسخ خطاطی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ آیت کے حروف کو سات مربوط حصوں میں اس طرح ڈھالا گیا ہے کہ وہ بظاہر ہوا معلق محسوس ہوتے ہیں۔
تقریبِ سے خطاب کرتے ہوئے برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ ان کے لیے نہایت اعزاز اور خوشی کی بات ہے کہ حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے اسلامی فن کا یہ شاہکار آکسفورڈ سینٹر فار اسلامک اسٹڈیز کو پیش کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ اس تاریخی ادارے میں پاکستان کی نمائندگی ہمارے لیے قومی فخر کا باعث ہے۔ یہ تحفہ صرف ایک علامتی اقدام نہیں، بلکہ پاکستان اور آکسفورڈ سینٹر فار اسلامک اسٹڈیز کے درمیان ایک دیرپا تعلق کی بنیاد ہے۔ یہ فن پارہ ایک پل کے طور پر کام کرے اور تحقیق، علمی تعاون اور ثقافتی مکالمے کے نئے دروازے کھولے۔
ہائی کمشنر نے سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فرحان احمد نظامی اور سینٹر کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے یہ تحفہ قبول کیا۔ ڈاکٹر فیصل نے امین گل جی کو خراجِ تحسین پیش کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے کلام کو غیر معمولی فنکارانہ انداز میں پیش کیا ہے۔
ڈاکٹر محمد فیصل نے مزید کہا کہ یہ فن پارہ تمام دیکھنے والوں کو یاد دلاتا رہے گا کہ علم کی تلاش ایک مقدس سفر ہے—جو اللہ کے حکم “اِقْرَأْ – پڑھو!” سے شروع ہوا اور جو آکسفورڈ سینٹر جیسے علمی اداروں اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے تعاون کے ذریعے آگے بڑھ رہا ہے۔
آکسفورڈ سینٹر فار اسلامک اسٹڈیز کو اسلامی ثقافت، تہذیب اور مسلمان معاشروں کے مطالعے کے لیے عالمی سطح پر ایک ممتاز ادارے کی حیثیت حاصل ہے۔