اسلام آباد: وفاقی وزیر مذہبی اُمور سردار محمد یوسف سے پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے ملاقات کی جس میں بین المذاہب ہم آہنگی، اقلیتوں کے حقوق اور دینی مدارس کے طلباء کو جدید تعلیم اور تکنیکی ہنر کی فراہمی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے کہا کہ پاکستان کو اپنی شاندار روایات، ثقافت اور مذہبی تنوع پر فخر ہے۔ پاکستان میں رہنے والے عیسائی، ہندو، سکھ، پارسی اور دیگر اقلیتیں ہمارے سماج کا اہم اور لازمی حصہ ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کی شمولیت اور تحفظ کے لیے وسیع پیمانے پر اقدامات کیے گئے ہیں۔وزیر مذہبی امور نے اس موقع پر بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر ریاستی سرپرستی میں ہونے والے مظالم پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک بین الاقوامی برادری کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
ملاقات میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہا کہ برطانیہ میں 20 لاکھ مسلمان اور 17 لاکھ ہندو آباد ہیں، جو برطانوی معاشرے کا فعال حصہ ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے تجربات کے تبادلے کی ضرورت پر زور دیا۔برطانوی ہائی کمشنر نے پاکستان میں مدارس کے طلباء کو جدید تکنیکی تعلیم، ہنر اور ایکسچینج پروگرامز کے ذریعے مواقع فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ برطانیہ ان طلباء کو سکالرشپ دینے کے لیے بھی تیار ہے۔
سردار محمد یوسف نے بتایا کہ پاکستان بھر میں 18 ہزار سے زائد مدارس رجسٹرڈ ہیں اور ان کے طلباء کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت ہنر مند بنایا جا رہا ہے۔دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ انتہا پسندی کے خاتمے اور سماجی ہم آہنگی کے لیے باہمی تعاون جاری رکھا جائے گا۔