اپریل 2026 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے بیجنگ میں ملاقات کے امکانات عالمی سیاست میں بڑی تبدیلی کا اشارہ دے رہے ہیں۔
غیر ملکی جریدے دی ڈپلومیٹ کے مطابق یہ ملاقات امریکہ اور چین کے تعلقات میں بہتری کے ساتھ تائیوان اور یوکرین جیسے تنازعات کے خطرات کم کر سکتی ہے۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور شی جن پنگ کی قربت بھارت کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ امریکہ اور چین کے مضبوط تعلقات سے بھارت کی سفارتی اور اقتصادی پوزیشن کمزور ہونے کا خدشہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے ٹیرف فیصلوں اور جی-ٹو کے تصور نے بھارت-امریکہ تعلقات کو متاثر کیا ہے، جبکہ ٹرمپ کے پاکستان سے قریبی روابط بھی بھارت کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر بھارت نے اپنی پالیسی میں فوری اصلاحات نہ کیں تو وہ عالمی سطح پر دباؤ اور تنہائی کا شکار ہو سکتا ہے۔