نیویارک:وزیراعظم محمد شہباز شریف کا اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی سے کلیدی خطاب دنیا کی توجہ کا مرکز رہا۔ تاریخی اور پرجوش خطاب کے دوران جنرل اسمبلی ہال تالیوں اور خیر مقدمی نعروں سے گونجتا رہا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا جنرل اسمبلی سے یہ تیسرا خطاب تھا ۔ وزیراعظم کا جامع اور مدلل خطاب دنیا کی توجہ کا مرکز بنا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کے خطاب سے قبل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو جب تقریر کیلئے بلایا گیا تو ہال میں شدید احتجاج کیا گیا ۔
اسرائیل کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالیوں اور نہتے فلسطینی عوام پر بربریت کے خلاف ہال میں شدید نعرے بازی کی گئی ۔
نیتن یاہوکا خطاب شروع ہونے سے پہلے ہی جنرل اسمبلی ہال میں موجودانسانیت دوست ممالک کےمندوبین نے بائیکاٹ کیا اوراسرائیل کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ہال سے واک آؤٹ کر گئے ۔
اسرائیلی وزیراعظم کی تقریر کے بعدوزیراعظم محمد شہباز شریف کو خطاب کی دعوت دی گئی۔مندوبین وزیراعظم محمد شہباز شریف کی تقریر سننے کےلئے دوبارہ ہال میں آئے اور جیسے ہی تقریر کے لیے وزیراعظم کا نام پکارا گیا تو ہال تالیوں اور خیر مقدمی نعروں سے گونج اٹھا۔
شرکاء کی جانب سے وزیراعظم کی امن کوششوں اورمظلوم فلسطینیوں کے لیے آواز بلند کرنے کو خوب سراہا گیا ۔