اسلام آباد:وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کاکہناہے کہ حالیہ موسم سرما میں بجلی صارفین کو نرخوں میں سہولت فراہم کی بجلی شعبے کی اصلاحات سے عوامی ریلیف اور صنعتوں کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔سمارٹ میٹرز کی تنصیب مکمل کرکے جلد رپورٹ پیش کی جائے۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت بجلی شعبے کی اصلاحات کا جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں گفتگوکرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بجلی شعبے میں نقصان کرنے والی جینکوز کی نیلامی کے دوسرے اور تیسرے مرحلوں کو بھی جلد مکمل کیا جائے۔جینکوز کی نیلامی کے عمل کو دیگر نجکاری کے پروگرامز کی طرح میڈیا پر براہ راست نشر کیا جائے۔انہوں نے ہدایت کی کہ سمارٹ میٹرز کی تنصیب مکمل کرکے جلد رپورٹ پیش کی جائے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے ٹیوب ویلز کی سولرآئیزیشن کا عمل مکمل ہو چکا جس سے بلوچستان کے زرعی شعبے کی پیداور میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے عمل کو تیز کیا جائے ۔ ملک بھر میں الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کے عمل کو تیز کیا جائے۔بجلی کے ترسیل و ٹرانسمیشن نظام کی بہتری کیلئے مجوزہ منصوبوں پر کام جلد شروع کیا جائے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے حالیہ موسم سرما میں بجلی صارفین کو نرخوں میں سہولت فراہم کی۔ قابل تجدید توانائی کے ماحول دوست اور کم لاگت منصوبوں کو جلد مکمل کرکے عوام کو مزید سہولت دینے کیلئے اقدامات اولین ترجیح ہیں۔
اجلاس کو بجلی شعبے کی پیدوار، ترسیل اور تقسیم کے حوالے سے جاری اصلاحات اور منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کی ہدایت پر فرسودہ اور نقصان میں چلنے والے جینکوز کی نیلامی کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا جس سے قومی خزانے کو 9.05 بلین روپے کی آمدن ہوئی جبکہ دوسرے اور تیسرے مرحلے کو مکمل کرنے کیلئے اقدمات تیزی سے جاری ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ شفافیت کے عنصر کو یقینی بنانے کیلئے نیلامی کی کاروائی براہ راست نشر کی جاتی ہے. 36 آئی پی پیز کے ساتھ بجلی کے نرخوں کے حوالے سے کامیاب مذاکرات ہوئے جس کے نتیج میں مجموعی طور ملکی خزانے کو 3.69 ٹریلین روپے کی بچت ہوگی۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ملکی صنعتوں کو ٹرانسمیشن لائن پر لا کر انہیں بلاتعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے جس سے صنعتی پیدوار، برآمدات اور زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا۔ بجلی ٹرانسمیشن کمپنی NTDCL کو تحلیل کرکے انرجی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی اور نیشنل گرڈ کمپنی تشکیل دی گئی ہیں اور انکو انکی ذمہ داریاں سونپی جا رہی ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں الیکٹرک وہیکلز کے فروغ کیلئے چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کا عمل بھی تیزی جاری ہے۔ الیکٹرک چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کی درخواستوں کو وصول کرنے کیلئے آن لائن پورٹل فعال ہے جس کے ذریعے 120 درخواستیں وصول کی جا چکی ہیں جس میں سے 48 درخواستوں کو عبوری رجسٹریشن کی دستاویزات تفویض کی جاچکی ہیں۔ اسی طرح پہلے سے موجود چارجنگ اسٹیشنز کی ریگیولرائیزیشن کا عمل بھی مکمل ہو چکا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ بجلی شعبے کی بہتری کیلئے پاور پلاننگ اور مانیٹرنگ کمپنی PPMC کا قیام عمل میں لایا جاچکا. ملک کی بیشتر تقسیم کار کمپنیوں کے انتظامی بقرڈز کی تشکیل نو کی جاچکی جو کہ اب مکمل طور پر فعال ہیں۔
وزیرِ اعظم کو مٹیاری-مورو-رحیم یار خان، غازی بروتھہ-فیصل آباد ٹرانسمیشن لائنز کے حوالے سے بھی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ان کی فنانسنگ میں مقامی و بین الاقوامی اداروں نے دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ اجلاس کو آئندہ چھ برس میں 2.4 ٹریلین کے گرشی قرضے کے مکمل خاتمے کیلئے بھی لائحہ سے آگاہ کیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ بجلی کی بچت کیلئے انرجی ایفیشنٹ پنکھوں کے فروغ کے حوالے سے بینکوں سے آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کا لائحہ عمل تیار کیا جارہا ہے تاکہ متوسط طبقے کے صارفین بجلی بچا کر بلوں میں کمی سے مستفید ہو سکیں۔ بجلی کی بچت کیلئے انرجی ایفیشنٹ عمارتوں کی تعمیر کے حوالے سے بھی روڈ میپ تیار ہے اور صوبائی حکومتوں سے بھی اس پر عملدرآمد پر مشاورت مکمل ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء سردار اویس خان لغاری، احد خان چیمہ، علی پرویز ملک، مشیر وزیرِ اعظم محمد علی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، نیشنل کوارڈینیٹر پاور ٹاسک فورس لیفٹیننٹ جنرل ظفر اقبال، وزیرِ اعظم کے کوآرڈینیٹر مشرف زیدی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔