غزہ:غزہ میں کھانے پینے کی اشیا کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے ۔ رفح بارڈر پر اب بھی سینکڑوں ٹرک غزہ میں داخل ہونے کے منتظر ہیں ۔مصر کی سرحد پر امدادی ٹرکوں کی طویل قطاریں لگ چکی ہیں ۔اسرائیل امدادی سامان کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے گریزاں ہے ۔
اقوام متحدہ اور امدادی تنظیموں نے رفح بارڈر فوری کھولنے کا مطالبہ کیا ہے ۔عالمی خوراک پروگرام کے سربراہ ٹام فلیچر نے کہا ہے کہ غزہ میں داخل ہونے کے لیے 250 خوراک کے ٹرک تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کو انتظار بہت جلد ختم ہونے کو ہے اور ہم امدادی سامان لے کر غزہ میں داخل ہونے والے ہیں ۔
عالمی ادارہ صحت ڈائریکٹر حنان بلخی نے اے ایف پی کو انٹرویو میں خبردار کیا ہے کہ غزہ میں وبا کا پھیلاؤ “قابو سے باہر” ہو گیا ہے ۔۔انہوں نے کہا کہ غزہ کے 36 ہسپتالوں میں سے صرف 13 جزوی طور پر کام کر رہے ہیں۔ بلخی نے کہا کہ غزہ میں صحت کے شعبے کو تباہ کر دیا گیا ہے، غزہ میں صحت کی دیکھ بھال کا نظام بہت کم رہ گیا ہے۔ متعدی بیماریوں کا پھیلاؤ قابو سے باہر ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا ہمیں مرحلہ وار بیماریوں سے نمٹنا پڑے گا۔