راولپنڈی:پاک فوج کے جانباز اور نشانِ حیدر کے نڈر سپوت سوار محمد حسین شہید کا 54واں یومِ شہادت آج عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے۔ سوار محمد حسین 18 جنوری 1949 کو ضلع راولپنڈی کی تحصیل گوجر خان کے گاؤں ڈھوک پیر بخش میں پیدا ہوئے اور 1971 کی جنگ میں اپنی بے مثال جرات اور شجاعت کی بدولت ہمیشہ کے لیے تاریخ میں امر ہو گئے۔
1971 کی جنگ کے دوران شکر گڑھ سیکٹر میں سوار محمد حسین نے بطور اسلحہ بردار ٹرک ڈرائیور انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ جنگ ایسے نازک مرحلے میں داخل ہو چکی تھی جب ہر طرف آگ، بارود اور دھوئیں کے بادل چھائے ہوئے تھے، لیکن ایسے میں ایک دلیر جوان ہر خطرے سے بے نیاز ہو کر اگلے مورچوں کے درمیان دوڑتا ہوا اُن سپاہیوں تک گولہ بارود پہنچا رہا تھا جن کی ہمت اس سے دوبالا ہو رہی تھی۔ سوار محمد حسین اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ایک مورچے سے دوسرے مورچے تک رسد پہنچاتے رہے اور اپنے غیر معمولی عزم اور حوصلے کا مظاہرہ کیا۔
آپ کئی بار لڑاکا گشت کی کارروائیوں میں بھی رضاکارانہ طور پر شامل ہوئے۔ 7 دسمبر کو ایسے ہی ایک گشت کے دوران انہوں نے اپنے تین ساتھیوں کے ہمراہ دشمن کو گدرپور گاؤں سے پسپا کیا۔ آپ نے گجگال گاؤں کی جانب دشمن کی پیش قدمی سے متعلق نہایت اہم معلومات اپنی یونٹ ہیڈکوارٹر کو فراہم کیں، جس سے دفاعی حکمت عملی میں مدد ملی۔
9 دسمبر کو انہوں نے دشمن کے ایک آرٹلری آبزرور کی نشاندہی کر کے اسے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ 10 دسمبر کو بھی آپ نے ہندوستانی ٹینکوں کی صحیح نشاندہی کر کے ان پر فائر گرانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں دشمن کے 16 ٹینک تباہ ہوئے۔
اسی دن وطنِ عزیز کا یہ بہادر سپوت دشمن کے ٹینک پر نصب مشین گن فائر کی زد میں آکر جامِ شہادت نوش کر گیا۔ سوار محمد حسین شہید کی بے مثال قربانی، جرات اور وطن سے غیر متزلزل محبت کا جذبہ ہمیشہ قوم کے دلوں میں زندہ رہے گا۔