Home نیوز پاکستان بل کو اب دوبارہ پارلیمانی عمل سے گزارنا پڑے گا،بیرسٹر سیف

بل کو اب دوبارہ پارلیمانی عمل سے گزارنا پڑے گا،بیرسٹر سیف

Share
Share

پشاور: پاکستان تحریک انصاف رہنما اور ماہر قانون بیرسٹر سیف کاکہناہے کہ بل واپس بھیجتے وقت کسی تحریری تبصرے یا رائے کی ضرورت نہیں۔ ترامیم کی کوئی قانونی حیثیت نہیں رہی، بل کو اب دوبارہ پارلیمانی عمل سے گزارنا پڑے گا۔

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ قانون سازی کیلئے صدر مملکت کی منظوری ضروری ہے، صدر آرٹیکل 75(1) کے تحت بل کو منظور کئے بغیر واپس بھیج سکتے ہیں اور بل واپس بھیجتے وقت کسی تحریری تبصرے یا رائے کی ضرورت نہیں بلکہ آرٹیکل 75(1) کے تحت صرف پیغام دینا ہوگا کہ بل واپس کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بل مقررہ مدت کے بعد خودبخود قانون نہیں بن سکتا، خودبخود قانون بننا مشترکہ پارلیمانی منظوری کے بعد کا عمل ہے، صدر کی بل کی منظوری سے انکار کے بعد کسی مزید تحریری وضاحت کی ضرورت نہیں رہی۔

بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ ترامیم کی کوئی قانونی حیثیت نہیں رہی، بل کو اب دوبارہ پارلیمانی عمل سے گزارنا پڑے گا جبکہ سپریم کورٹ کو قانون سازی کے آئینی عمل کی پامالی کا نوٹس لینا چاہیے، صدر کو اندھیرے میں رکھ کر قانون کا گزٹ نوٹیفکیشن قانون کا مذاق ہے، یہ فوجداری قانون ہے جس کا اطلاق ماضی کے افعال و جرائم پر نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے کہا کہ یہ دونوں ترامیمی قوانین انسانی حقوق سے متصادم ہونے کے باعث آرٹیکل 8 کے منافی ہیں، ترامیم سپریم کورٹ میں چیلنج ہو چکے ہیں، فیصلہ آنے تک قانون نہیں بن سکتے، اس قانون سازی کے پیچھے بدنیتی کار فرما ہے، صدر پاکستان کے عہدے پر قبضے کی سازش کی جا رہی ہے۔

Share
Related Articles

شاہد آفریدی کا شاپور زدران کے انتقال پر اظہارِ افسوس، خراجِ عقیدت پیش

افغانستان کے سابق فاسٹ بولر 38 برس کی عمر میں انتقال کر...

پنجاب میں خواتین کے تحفظ کے لیے 24 گھنٹے ٹول فری ہیلپ لائن کا آغاز

ہراسگی، تشدد اور ہنگامی حالات میں فوری مدد کی سہولت لاہور: پنجاب...

مودی کے لیے تخلیق کیے گئے ایوارڈز شرمناک کہانی ہیں، خواجہ آصف

وزیر دفاع کی نریندر مودی کو دیے گئے اعزاز پر شدید تنقید...