لندن: برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے ایک دستاویزی فلم جاری کی ہے جس میں بنگلہ دیش میں وزیر اعظم شیخ حسینہ کے آمرانہ دور اور بدعنوانی کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ فلم میں مقامی اور عالمی ماہرین کی تحقیقات کی بنیاد پر انکشافات سامنے آئے ہیں کہ شیخ حسینہ کے دور میں کرپشن، لوٹ مار اور طاقت کے ناجائز استعمال کو فروغ ملا۔
طلبہ تحریک کی کوآرڈی نیٹر رافیہ رحنوما کے مطابق شیخ حسینہ کا دور جمہوری نہیں بلکہ آمریت پر مبنی تھا۔ فنانشل ٹائمز کے جنوبی ایشیا بیورو چیف جان ریڈ نے کہا کہ طلبہ کی احتجاجی تحریک نوکریوں کے کوٹے میں بدعنوانی اور حکومتی آمرانہ رویے کے باعث عروج پر پہنچی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سابق حکومت کے قریبی افراد نے فوجی انٹیلیجنس کی مدد سے بینکوں پر کنٹرول حاصل کیا۔
رضوان احمد رفعت، کوآرڈی نیٹر “اسٹوڈنٹس اگینسٹ ڈسکرمنیشن کےمطابق احتجاج کے دوران پولیس اور حکمران جماعت کے مسلح گروہوں نے براہ راست فائرنگ اور ہیلی کاپٹر سے شیلنگ کی۔ اقوام متحدہ کے مطابق احتجاج کے دوران تقریباً 1,400 سے زائد افراد ہلاک جبکہ ہزاروں زخمی اور لاپتہ ہوئے۔ رپورٹر سوزانہ سیویج کے مطابق بنگلہ دیش سے 10 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا گیا جبکہ برطانیہ کے مالیاتی ادارے اور جائیدادیں اس سرمائے کی محفوظ پناہ گاہ بنیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شیخ حسینہ اور ان کے خاندان نے بڑے منصوبوں سے رقوم خوردبرد کیں اور غیر قانونی طور پر سرکاری زمین حاصل کی۔ ماہرین کے مطابق ریاست پر مکمل قبضے کے باعث عوامی لیگ نے اپنے دورِ اقتدار کے آخری حصے میں معیشت اور جماعت پر کنٹرول کھو دیا۔ چیف ایڈوائزر محمد یونس نے انکشاف کیا کہ 234 ارب ڈالر بینکاری اور کاروباری شعبے سے لوٹ کر بیرون ملک منتقل کیے گئے۔
بھارت میں ایک دہائی سے اقتدار پر قابض نریندر مودی نے شیخ حسینہ کو پناہ دے کر آمریت کی حمایت کا ثبوت دیا اور دونوں رہنماؤں نے اپنے اپنے ملک میں کرپشن اور نااہل سیاست کے ریکارڈ قائم کیے۔