لاہور: آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم نے لاہور میں تین روزہ بسنت فیسٹیول کے آغاز کے پیش نظر اندرون شہر موچی گیٹ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے بسنت کے سکیورٹی انتظامات کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران اور دیگر سینئر پولیس افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ڈی آئی جی لاہور فیصل کامران نے آئی جی پنجاب کو بسنت فیسٹیول کے دوران کیے گئے سکیورٹی انتظامات پر بریفنگ دی۔
آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم نے لاہور پولیس کو ہدایت کی کہ محفوظ بسنت کو یقینی بنانے کے لیے حکومتی ضابطہ اخلاق اور ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس نے لاہور میں محفوظ بسنت کے انعقاد کے لیے مکمل تیاریاں کر لی ہیں جبکہ کائٹ فلائنگ ایکٹ کی خلاف ورزی پر اب تک 1600 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔
آئی جی پنجاب نے کہا کہ بسنت فیسٹیول کی سکیورٹی کے لیے لاہور میں 10 ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ دیگر شہروں سے شہریوں کی بڑی تعداد کی آمد کے پیش نظر اضافی ٹریفک اہلکار بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور کو سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے تین زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔
راؤ عبدالکریم نے واضح کیا کہ دھاتی اور کیمیکل ڈور کے استعمال یا کسی بھی حکومتی پابندی کی خلاف ورزی پر قانون حرکت میں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈرونز اور سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے سرویلنس کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور شہری قانون کی پابندی کریں کیونکہ خلاف ورزی پر بچنا مشکل ہوگا۔ آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ کسی کو ریلیکس ماحول نہیں ملے گا اور ضرورت کے مطابق بھرپور اقدامات کیے گئے ہیں۔
آئی جی پنجاب نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر شہریوں کو بسنت ایس او پیز کے بارے میں بھرپور آگاہی دی گئی ہے اور شہریوں سے اپیل کی کہ محفوظ بسنت کو یقینی بنانے کے لیے ایس او پیز کی مکمل پابندی کریں۔