واشنگٹن:امریکی ٹیرف پابندیوں نے بھارت کی نام نہاد خودمختار خارجہ پالیسی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ عالمی فورمز پر غیر جانبداری کا دعویٰ کرنے والا بھارت امریکی معاشی دباؤ کے سامنے مکمل طور پر سرنگوں دکھائی دے رہا ہے۔
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق ٹیرف پابندیوں کے بعد بھارت نے روسی تیل کی خریداری میں واضح کمی کی ہے، جسے امریکی پالیسی کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔انہوں نے بھارت پر پچیس فیصد ٹیرف برقرار رہنے کی بھی تصدیق کی، جبکہ انڈین ایکسپریس کے مطابق گزشتہ سال اگست میں بھارتی مصنوعات پر امریکی ٹیرف پچاس فیصد تک بڑھا دیے گئے تھے۔
ماہرین کے مطابق عالمی معاشی دباؤ نے بھارت کے وشو گرو بننے کے خواب کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جبکہ بھارتی خارجہ پالیسی حقیقت پسندی کے بجائے داخلی سیاسی نعروں اور ہندوتوا نظریات کی اسیر بنتی جا رہی ہے۔