Home Uncategorized نوجوانوں میں بڑی آنت کے کینسرمیں تیزی سے اضافہ ہونے لگا ؟

نوجوانوں میں بڑی آنت کے کینسرمیں تیزی سے اضافہ ہونے لگا ؟

Share
Share

نیویارک : کولوریکٹل یا بڑی آنت کے کینسر کے مریضوں میں چند برسوں سے تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، یہ ٹیومر بڑی آنت اور معدے کو متاثر کرتا ہے، جس سے مریض کی صحت اور معیار زندگی پر بُرا اثرپڑتا ہے ۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا کے چند مختلف حصوں میں خاص طور سے بڑی عمر کے افراد کے مقابلے 50 سال سے کم عمر کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

بڑی آنت کے کینسر کے مریضوں میں تیزی سے ہونے والے اضافے کو بعض ماہرین ’خطرناک‘ اور ’پریشان کن‘ قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض کاکہنا ہے کہ اس معاملے پر ایک ’عالمی الرٹ‘ جاری کرنے کی ضرورت ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق اگر آج کے موجودہ اعداد و شمار کا موازنہ 30 سال پہلے کی شرح سے کریں تو کچھ تحقیقات کے مطابق نسبتاً کم عمر مریضوں میں کولوریکٹل کینسر کے کیسز میں 70 فیصد اضافے کے شوہد ملتے ہیں۔

 

تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ حالیہ دہائیوں میں لاطینی امریکہ اور کیریبین میں کولوریکٹل کینسر کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے، اس کی وجوہات میں اوسط عمر میں اضافہ، طرز زندگی اور خوراک میں تبدیلی شامل ہے۔

اقوام متحدہ کی گلوبل کینسر آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ 1990 سے نو لاطینی امریکی ممالک جن میں ارجنٹینا، برازیل، چلی، کولمبیا، کوسٹا ریکا، کیوبا، ایکواڈور اور میکسیکو شامل ہیں، جہاں کولوریکٹل کینسر کے کیسز اور اس سے ہونے والی اموات کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق آج ہم متعدی بیماریوں کے دور سے نکل کر دائمی بیماریوں کے دور میں جی رہے ہیں ، لوگوں کا طرز زندگی جس میں موٹاپا، سگریٹ نوشی، شراب نوشی اور خوراک میں تبدیلی اس قسم کے کینسر کے کیسز میں اضافے کی بنیادی وجہ ہے۔

کولوریکٹل ٹیومر ریفرنس سینٹر کے مطابق 35 یا 40 سال کے نوجوانوں کا ٹیومر کی سکریننگ کے لیے آنا ایک عام بات ہے، عمر سے قطع نظر، اگر کسی کو اپنی آنتوں میں کوئی مسئلہ محسوس ہو تو انہیں فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی کے پاخانے میں خون آئے، آنتوں میں کوئی تبدیلی محسوس ہو یا پیٹ میں درد رہتا ہے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ آپ جوان ہیں تب بھی ان علامات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے.

برازیلین سوسائٹی آف کلینیکل آنکولوجی (SBOC) کے مطابق نوجوانوں میں کولوریکٹل کیسز میں اضافہ تشویشناک ہے، تاہم یہ ٹیومر کیوں بڑھ رہا ہے، اس کے متعلق کچھ مفروضے ہیں لیکن ان میں سے کسی کی بھی اب تک تصدیق نہیں ہو سکی۔

ان کے مطابق اس کی ایک وجہ حالیہ دہائیوں میں دیہی ثقافت کا غائب ہونا اور ہمارے رہن سہن کے طریقوں میں ہونے والی ڈرامائی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں، جس میں پراسیسڈ مصنوعات پر مبنی خوراک میں اضافہ، قدرتی کھانوں کے استعمال کمی، چلنے پھرنے کی بجائے زیادہ دیر تک بیٹھنے کی عادت شامل ہوسکتی ہیں، لیکن طرز زندگی میں تبدیلیاں اس کی واحد وجہ نہیں ہے۔

ان کے مطابق آج ہم اینٹی بائیوٹک کے اندھا دھند استعمال کو بھی نظرانداز نہیں کر سکتے ہیں۔نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے کیسز کے بارے میں خدشات کے باوجود ایک اچھی خبر یہ ہے کہ کولوریکٹل کینسر کی تشخیص میں بہتری آئی ہے۔

یہ سرجری کی تکنیکوں میں ترقی کی وجہ سے ممکن ہوا ہے جس کی وجہ سے اب اس کینسر کا ابتدائی اسٹیج پر ہی علاج ممکن ہے، جبکہ بہت سے کیسز میں بنا سرجری کے ادویات کے ساتھ بھی علاج ممکن ہے جبکہ کیموتھراپی اور امیونو تھراپی اس کے علاج میں مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔

اگر ٹیومر کا پتا جلدی لگ جائے تو علاج کا امکان 95 فیصد سے بھی زیادہ ہے لیکن بیماری اگر جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل جائے تو علاج مشکل اور کامیابی کی شرح کم ہو جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر علاج ممکن نہ ہو تب بھی، اس ٹیومر کے مریضوں کے زندہ رہنے کے امکانات 20 سال پہلے کے مقابلے میں تین سے چار گنا زیادہ ہیں۔

Share
Related Articles

بہترین انتظامات کے باعث بسنت کا مزہ دوبالا ہو گیا،غیر ملکی شہری بھی پتنگ بازی کے جوش میں شامل

لاہور میں بہترین انتظامات کے باعث بسنت کا مزہ دوبالا ہو گیا۔شہریوں...

نئی سوچ، جدت پسندی اور بدلتے زمانے کے تقاضوں کو اپنانا ہی نوجوانوں کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے،مصدق ملک

اسلام آباد:وفاقی وزیرِ موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ...

پاکستان دشمنی میں مبتلا بھارتی میڈیا کا ایک اور جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

اسلام آباد:گودی میڈیا جھوٹ، فریب اور پروپیگنڈا کے ہتھیار سے خطہ میں...

ایپل نے آئی فون سیریز کا 17 واں ایڈیشن متعارف کرا دیا

کیلیفورنیا :ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے اپنی فلیگ شپ ڈیوائس آئی فون 17...