بیجنگ: پاکستان کے سفارتخانے بیجنگ میں یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر “جموں و کشمیر: ماضی اور حال” کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔تقریب میں صدر، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم / وزیر خارجہ کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے، ان پیغامات میں جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا جو سات دہائیوں سے زائد عرصے سے غیر قانونی ہندوستانی قبضے کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کے لیے سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کو دہرایا گیا۔ پیغامات میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلوں کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازع کے منصفانہ حل کے لیے پاکستان کے مطالبے کا اعادہ کیاگیا۔
سیمینار میں چینی اسکالر اور چہار انسٹی ٹیوٹ کے سینئر ریسرچ فیلو پروفیسرچینگ ژی ژونگ نے بطور کلیدی مقرر خطاب کیا۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے تنازع کی تاریخی، سیاسی، سیکورٹی اور انسانی حقوق کے پہلوؤں پر روشنی ڈالی، کشمیری عوام کی مشکلات کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور اس دیرینہ تنازع کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلوں کے مطابق حل پر زور دیا۔
چین میں تعینات پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے سیمینار میں شریک چینی اسکالرز، محققین، علمی اور میڈیا شخصیات کا شکریہ ادا کیا اور چینی حکومت کی جموں و کشمیر کے مسئلے پر واضح موقف کو سراہا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلے کے منصفانہ حل کی ضرورت پر زور دیا۔ سفیر پاکستان نے کہا کہ جموں و کشمیر کا سوال بین الاقوامی قوانین، اصولوں اور اقوام متحدہ کے عالمی نظام کی سالمیت سے متعلق ہے۔ انہوں نے بھارت کی سات دہائیوں سے اقوام متحدہ کے فیصلوں کی خلاف ورزی اور آزادی کی جدوجہد کو دہشت گردی سے غلط طور پر منسلک کرنے کی کوششوں پر بھی تنقید کی۔
تقریب میں جموں و کشمیر کے تاریخی پس منظر اور بھارتی سکیورٹی فورسز کی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر مشتمل ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی اور تصویری نمائش کابھی اہتمام کیاگیا۔