اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے حالیہ دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں “مضحکہ خیز، تاخیری اور غیرحقیقی” قرار دیا ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ”آپریشن سندور” کے دوران پاکستانی طیارے تباہ کرنے کے بھارتی دعوے زمینی حقائق کے برعکس ہیں۔
خواجہ آصف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تین ماہ تک بھارت کی جانب سے کوئی ایسا دعویٰ سامنے نہیں آیاجبکہ پاکستان نے فوری طور پر بین الاقوامی میڈیا کو تفصیلی تکنیکی بریفنگز دیں۔ غیر جانبدار مبصرین اور غیر ملکی انٹیلی جنس رپورٹس نے متعدد بھارتی طیاروں، بشمول رافیلز، کی تباہی کی تصدیق کی۔
خواجہ اصف نے کہا کہ جن کا اعتراف بعض عالمی رہنماؤں اور بھارتی سیاستدانوں نے بھی کیا۔بھارت ایک بھی پاکستانی طیارہ نشانہ بنانے میں ناکام رہا پاکستان نے 6 بھارتی جنگی طیارے، ایس-400 ایئر ڈیفنس سسٹمز، اور بھارتی ڈرونز تباہ کیے،ساتھ ہی کئی بھارتی فضائی اڈوں کو بھی ناکارہ بنا دیا لائن آف کنٹرول پر بھارتی افواج کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پاکستان نے بھارت کو چیلنج کیا کہ دونوں ممالک اپنے طیاروں کی فہرستیں آزاد ماہرین کے سامنے پیش کریں تاکہ حقیقت دنیا پر آشکار ہو، تاہم خدشہ ہے کہ بھارت ایسا کرنے سے کترائے گا۔جنگیں جھوٹ سے نہیں بلکہ اخلاقی برتری، قومی عزم اور پیشہ ورانہ مہارت سے جیتی جاتی ہیں ۔۔
وزیردفاع نے کہا کہ جھوٹے بیانیے نہ صرف خطے کے امن کے لیے خطرناک ہیں بلکہ ایٹمی ماحول میں اسٹریٹیجک غلط اندازے کے شدید نتائج بھی ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آپریشن بنیانِ مرصوص کے دوران بھی پاکستان نے واضح کر دیا تھا کہ اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی ہر خلاف ورزی کا فوری، مؤثر اور بھرپور جواب دیا جائے گااور کسی بھی ممکنہ بگڑتی صورتحال کی ذمہ داری ان بھارتی رہنماؤں پر عائد ہوگی جو قلیل مدتی سیاسی فائدے کے لیے خطے کے امن کو داؤ پر لگاتے ہیں۔