بیجنگ: سال 2025 کے ابتدائی چھ مہینوں کے دوران پاکستان کی جانب سے چین کو فِش فلور اور فِش میل کی برآمدات میں 27 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کی بڑی وجوہات مسابقتی قیمتیں اور چینی جانوروں کی خوراک کی صنعت میں پروٹین سے بھرپور اجزاء کی بڑھتی ہوئی طلب بتائی جا رہی ہیں۔
چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز (GACC) کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے جون 2025 تک، پاکستان نے چین کو 25.13 ملین کلوگرام فِش میل برآمد کی، جس سے 23.75 ملین ڈالر کی آمدنی ہوئی جو کہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے دوران 18.70 ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔
یہ اضافہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستانی فِش میل چینی مارکیٹ میں مسابقتی حیثیت حاصل کر چکی ہے، بالخصوص کم قیمتوں کی بدولت۔ صنعت سے وابستہ ماہر اویس میر کے مطابق، پاکستان نے اس سال صرف 0.95 ڈالر فی کلوگرام کی اوسط قیمت پر فِش میل فراہم کی، جو چینی خریداروں کے لیے خاصی پرکشش ثابت ہوئی۔ اس کے مقابلے میں ڈنمارک جیسے دیگر مہنگے سپلائرز نے 1.88 ڈالر فی کلوگرام کی قیمت پر فِش میل برآمد کی، جبکہ ان کی مجموعی برآمدات 2.89 ملین ڈالر زہیں۔
اویس میر نے مزید کہا کہ چین میں جانوروں کی خوراک میں پروٹین کی بڑھتی ہوئی مانگ، پاکستان کی جغرافیائی قربت اور تجارتی روابط کے فروغ کی وجہ سے یہ شعبہ آئندہ بھی ترقی کے راستے پر گامزن رہے گا۔
ماہرین کے مطابق اس مثبت رجحان کے پیچھے پاکستان اور چین کے درمیان سمندری اور زرعی تعاون میں وسعت، بالخصوص بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) کے تحت اشتراک، کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان معیار میں بہتری اور پائیدار ماہی گیری کے طریقوں کو اپنائے تو اس شعبے میں مزید پیش رفت ممکن ہے۔