واشنگٹن :وزیرِاعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وزیرِاعظم نے صدر ٹرمپ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں ”امن کا علمبردار“ قرار دیا وزیر اعظم نے صدر ٹرمپ کی جرات مندانہ اور فیصلہ کن قیادت کو سراہا جس کی بدولت پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی اور جنوبی ایشیا کو ایک بڑے المیے سے بچا لیا گیا۔
وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم کے ہمراہ وائٹ ہاوٴس میں امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ سے ملاقات کی۔
ملاقات خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہوئی۔ وزیرِاعظم نے صدر ٹرمپ کو ”امن کا علمبردار“ قرار دیتے ہوئے دنیا بھر میں تنازعات کے خاتمے کے لیے ان کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان سیزفائر میں صدر ٹرمپ کے جراتمندانہ اور فیصلہ کن کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت نے جنوبی ایشیا میں ایک بڑے سانحے کو ٹالنے میں مدد دی۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے خاص طور پر غزہ میں جنگ بندی کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے نیویارک میں مسلم دنیا کے اہم رہنماوٴں کو مدعو کرنے اور مشرق وسطیٰ بالخصوص غزہ اور مغربی کنارے میں قیامِ امن کے لیے تبادلہ خیال کے حالیہ اقدام کو سراہا۔
وزیرِاعظم شہبازشریف نے پاکستان اور امریکا کے درمیان رواں سال کے آغاز میں ہونے والے ٹیرف معاملات پر بھی صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں پاک۔امریکہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے، وزیر اعظم نے امریکی کمپنیوں کو پاکستان کے زرعی شعبے، آئی ٹی، معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔
ملاقات میں علاقائی سلامتی اور انسداد دہشت گردی کے حوالے سے تعاون پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیرِاعظم نے انسداد دہشت گردی میں پاکستان کے کردار کی کھلی حمایت پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سیکیورٹی اور انٹیلیجنس کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی۔