جنیوا: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے جنیوا میں ہونے والی گاوی بورڈ میٹنگ میں پاکستان کی نمائندگی کی اورپاکستان میں انسدادِ پولیو اور حفاظتی ٹیکہ جات میں پیش رفت سے آگاہ کیا ۔
وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اجلاس کو بتایا کہ مربوط حکمتِ عملی کے نتیجے میں پولیو کیسز میں کمی آئی ہے اور تعداد 74 سے کم ہو کر 30 رہ گئی ہے۔ علاوہ ازیں، معمول کے حفاظتی ٹیکوں کی کوریج میں بھی نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ انہوں نے زیرو ڈوز بچوں کی نشاندہی اور رسائی کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا۔
وزیر صحت نے ای پی آئی اور پی ای آئی ٹیموں کے ساتھ کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کی انتھک محنت کو سراہا اور حفاظتی ٹیکوں کی کوریج میں اضافے اور ہر بچے کے محفوظ مستقبل کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر صحت کے مطابق، ای پی آئی اور پی ای آئی کے مشترکہ اقدام سے مئی اور ستمبر میں چار لاکھ زیرو ڈوز بچوں کی نشاندہی کی گئی۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اعلیٰ معیار کی پولیو مہمات کے نتیجے میں لاکھوں بچوں تک ویکسین کی رسائی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سال 2025 کے آخر میں پولیو مہم 15 تا 21 دسمبر کو منعقد کی جائے گی، جس میں چار لاکھ سے زائد پولیو ورکرز خدمات انجام دیں گے اور 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔