اسلام آباد: ستمبر1965،جنگ کا دسواں روز:پاکستانی افواج نے بھارتی فوج کی جارحیت کا بھرپور جواب دیتے ہوئے قصور سیکٹر سے دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ جموں سے سیالکوٹ کی جانب پیش قدمی کی کوشش کرنے والی بھارتی فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ پاکستانی فوج کی شاندار حکمت عملی اور موثر جوابی حملوں نے بھارتی منصوبوں کو خاک میں ملا دیا۔
پاک فضائیہ نے دوارکا اور جام نگر کے نیول اور ایئر بیسز کو تباہ کرکے دشمن کو شدید نقصان پہنچایا، جس پر بھارتی بحریہ نے اپنی فضائیہ کی شرمناک شکست پر سخت غصہ ظاہر کیا۔ لاہور سیکٹر کے قریب پاکستانی فوج نے چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کر کے دو بھارتی جنگی طیارے مار گرائے، جس سے دشمن کے ہوائی حملوں کی کمر ٹوٹ گئی۔
سیالکوٹ کے محاذ پر بھارتی فوج کے سات مزید سینچورین ٹینک تباہ ہو گئے، جس کے ساتھ ہی اس سیکٹر میں تباہ شدہ بھارتی ٹینکوں کی تعداد 42 ہو گئی ہے۔ دراس سیکٹر میں مجاہدین نے مرال آباد کے مقام پر بھارتی فوج کے مضبوط ٹھکانوں کو تباہ کر کے دشمن کی صفوں میں مزید دراڑ ڈال دی۔
پاک بحریہ کی برتری کی بدولت بحیرہ عرب میں بھارتی بحریہ کی آزادانہ کارروائیاں مکمل طور پر بند ہو گئیں، اور پاکستانی لڑاکا طیاروں نے لاہور کی فضائی حدود میں دشمن کے ایک بھارتی جیٹ کو بھی مار گرایا۔ بھارتی ائر فورس نے مشرقی پاکستان کے رنگ پور کے علاقے لال مونیزہٹ اور دیناج پور کے ٹھاکر گاوں پر بمباری کی، لیکن پاک فوج ہر محاذ پر دشمن کو شکست فاش دینے میں کامیاب رہے۔