Home سیاست برطانیہ کی جانب سے انتہا پسندی کی نئی تعریف متعارف

برطانیہ کی جانب سے انتہا پسندی کی نئی تعریف متعارف

Share
Share

لندن: برطانیہ نے یہودیوں اور مسلمانوں کیخلاف نفرت پر مبنی جرائم میں اضافے کے بعد انتہا پسندی کی نئی تعریف متعارف کروا دی ہے۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی تعریف میں دوسروں کے بنیادی حقوق اور آزادی کی نفی یا تباہی کو بھی انتہاپسندی کی تعریف کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

برطانیہ کی لبرل پارلیمانی جمہوری نظام اور جمہوری حقوق کو کمزور کرنا یا انہیں تبدیل کرنے کی کوشش کرنا بھی نئی تعریف میں شامل کیا گیا، تشدد اور عدم برداشت پر مبنی نظریات کو فروغ دینے والے گروپس کو حکومتی فنڈنگ سے روک دیا جائے گا۔

برطانوی وزیر مائیکل گوو نے کہا کہ مسلمانوں اور یہودیوں کیخلاف بڑھکتے جذبات سے نمٹیں گے، عدم برداشت کو فروغ دینے والے گروپس کی فنڈنگ روکی جائے گی، انتہاپسندی کی نئی تعریف کے معاملے پر ردعمل میں مسلم کونسل آف بریٹن کا کہنا ہے اقدام سے مسلم کمیونٹی نشانہ بنے گی۔

ادھر سٹاپ دی وار اتحاد نے برطانوی وزیر مائیکل گوو کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام افراد وزیر کے بیان کیخلاف مزاحمت کریں۔

Share
Related Articles

ججز منتقلی معاملہ: بیرسٹر گوہر کی مخالفت، جوڈیشل کمیشن اجلاس میں شرکت کا اعلان

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے...

بانی پی ٹی آئی کا آنکھوں کا علاج: پمز اسپتال کی وضاحت جاری

اسلام آباد: پمز اسپتال انتظامیہ نے بانی پاکستان تحریک انصاف کے آنکھوں...

اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کا شیڈول جاری

راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف سے ملاقاتوں کے سلسلے...

سہیل آفریدی کی محمود خان اچکزئی سے ملاقات ،ملک کی سیاسی صورتحال ، اہم قومی امور پر گفتگو

اسلام آباد:وزیراعلی ٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے محمود خان اچکزئی سے...